فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 368

۳۶۸ ذبیحہ اہل کتاب ضر ر لاحق ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔اس سے ظاہر ہے کہ اسلام نے اخلاق پر خوراک کے اثر کو تسلیم کیا ہے اور اس کو خاص قیود اور شرائط سے وابستہ کر کے اخلاق کے حصول کا ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے۔( تفسیر کبیر جلد ششم - سوره مومنون - صفحه۱۸۱،۱۸۰) ھندوؤں اور عیسائیوں کے ساتھ مل کر کھانا کھانا سوال:۔ایک شخص دس بارہ سال سے مسلمان ہے، احمدی ہے، مبائع ہے، چندہ بھی دیتا ہے،نماز بھی پڑھتا ہے وہ چوہڑوں اور عیسائیوں کے ساتھ کھانا کھالیتا ہے ایسے آدمی سے کیا سلوک ہو؟ جواب :۔اگر حرام چیز لے کر کھاتا ہے تو اسے منع کر دو۔اگر غیر مذاہب والوں سے مثلاً عیسائیوں سے کوئی حلال چیز لے کر کھائے تو کچھ حرج نہیں ہے۔الفضل ۶ مئی ۱۹۱۵ ء - جلد ۲ - نمبر ۱۳۶ صفه ۲ ) سوال :۔ہمارے ہاں پیشہ طبابت کی وجہ سے بعض اوقات ہندوؤں کے ہاں سے بیاہ شادی کے موقعوں پر مٹھائی وغیرہ کا جو حصہ آجاتا ہے اس کا کھانا کیسا ہے اور اگر کوئی دیوی دیوتا کے چڑھاوے میں سے کچھ بھیج دے تو اس کی نسبت کیا ارشاد ہے؟ فرمایا:۔شادی بیاہ کا حصہ اگر اکل حلال ہو تو جائز ہے اور چڑھاوے کا کھانا منع ہے۔الفضل ۱۰ نومبر ۱۹۱۵ء۔جلد۳۔نمبر۶۰ صفحه ۲) سوال :۔ایک عیسائی نے لکھا کہ میں ایک احمدی سے قرآن کا ترجمہ پڑھتا ہوں اور اس کا حقہ بھی پی لیتا ہوں۔احمدی لوگ اس احمدی کو تنگ کرتے اور کہتے ہیں کہ تم عیسائی کے ساتھ کیوں حقہ پیتے ہو۔آپ اس کے متعلق کیا فتویٰ دیتے ہیں؟ جواب:۔عیسائی کے ساتھ حقہ پینا جائز ہے مگر بہتر ہے کہ احمدی حقہ پینا ہی چھوڑ دے کیونکہ یہ ایک لغو عادت ہے۔الفضل یکم جولائی ۱۹۱۶ء۔جلد ۳۔نمبر ۱۲۲ صفحہ ۷ )