فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 364

۳۶۴ ذبیحہ اہل کتاب استعمال کرے اور اسی طریق کو رواج دینے کی پوری پوری کوشش کرے۔اس کے علاوہ حلال ذبیحہ کی بعض اور بھی جائز صورتیں ہیں۔مثلاً ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لینا بھول جائے یا جانور قابو میں کسی طرح نہ آئے اور کوئی مسلمان اللہ کا نام لے کر نیزہ، تیر یا بندوق جیسے ہتھیار سے اسے مارے۔یا کوئی اہل کتاب اللہ تعالیٰ کا نام لے کر چھری یا کسی اور تیز دھار آلہ سے جانور کی گردن کی شاہ رگ اور نرخرہ کاٹ دے اور اس سے اچھی طرح خون بہہ جائے یا اونٹ کی گردن میں نیزہ مار کر نحر کرے یا بے قابو جانور کو اللہ کا نام لے کر نیزہ ، تیر یا بندوق جیسے ہتھیار سے مارے۔اسی طرح اگر کوئی اہل کتاب ذبح کرتے وقت نہ اللہ تعالیٰ کا نام لے اور نہ غیر اللہ کا اور ذبیح معروف طریق کے مطابق کرے تو آیت کریمہ وطعام الذين أوتوا الكتاب حل لكم وطعامكم حل لهم (مائده) کے ماتحت ایسے گوشت کو بھی ضرورت پیش آنے پر بسم اللہ پڑھ کر استعمال کرنا جائز ہے۔درست ہے۔الفضل ۱۹؍ جنوری ۱۹۶۴ء صفحه ۵) فیصلہ مجلس افتاء جسے حضور نے منظور فرمایا۔فیصلہ نمبر ۱۵) مسئله ذبیحه اہل کتاب میں عرفاً یہودی اور عیسائی دونوں شامل ہیں۔لیکن جو عیسائی ذبیحہ کے بارہ میں تو رات کے احکام پر پورے طور پر عمل نہیں کرتے ان کے ذبیحہ کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہئے۔لفظ ” معروف سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نام لینے کے سوا باقی طریق ذبح اسلامی ہو۔حضور نے فرمایا: درست ہے۔( الفضل ا ار ستمبر ۱۹۶۴ء صفحه ۴ ) فیصلہ مجلس افتاء جسے حضور نے منظور فرمایا۔فیصلہ نمبر۱۷)