فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 365

۳۶۵ مچھلی کوکیوں ذبح نہیں کیا جاتا ذبیحہ اہل کتاب فرمایا۔اسلام نے ان جانداروں کو ذبح کرنے کا حکم دیا ہے جن میں دوران خون ہوتا ہے اور ہوا میں سانس لیتے ہیں اور ذبیحہ میں یہ حکمت ہے کہ خون جسے اسلام نے حرام قرار دیا ہے اور جس میں زہر ہوتا ہے ذبح کرنے سے نکل جاتا ہے لیکن جھٹکہ کرنے کی صورت میں خون جسم میں ہی رہتا ہے۔ورنہ اسلام کو اس سے کیا کہ جانور کو گلے سے ذبح کیا جائے یا گردن کاٹی جائے۔گردن میں ایسی رگیں ہوتی ہیں کہ ان پر چوٹ پڑنے سے ہی بیہوشی کی حالت طاری ہو جاتی ہے اور دوران خون رک جاتا ہے۔مچھلی میں چونکہ دوران خون نہیں ہوتا اس لئے اسے ذبح کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔فكلوا مما رزقكم الله حلالا طيبا (الآية) ( الفضل ۱/۸ اکتوبر ۱۹۶۰ء صفحه ۳) انما حرم عليكم الميتة والدم ولحم الخنزير وما اهل لغير الله به (الآية) یا در ہے کہ مال کی حلت ذریعہ کسب کے صحیح ہونے پرمبنی ہوتی ہے۔مگر خوردنی اشیاء کے لئے اس کے علاوہ ایک اور شرط بھی ہے اور وہ یہ کہ وہ اس قسم میں شامل نہ ہوں جسے حرام کیا گیا ہے۔پس اس سوال کو کہ کونسی اشیاء حلال ہیں اور کونسی حرام اس آیت میں حل کیا گیا ہے۔الفاظ قرآنیہ بتاتے ہیں کہ اشیاء کی حلت و حرمت میں اصل حلت ہے اور حرمت ایک قید کے طور پر ہے۔بعض لوگوں کو خیال ہے کہ ہر شے حرام ہے سوائے اس کے جسے خدا تعالیٰ نے جائز کر دیا ہو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ مالک ہے اور مالک کی اجازت کے بغیر کسی چیز کا استعمال جائز نہیں ہوتا۔لیکن یہ درست نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرما چکا ہے کہ ہم نے ہر چیز انسان کے لئے پیدا کی ہے اور اس کے لئے مسخر کر دی ہے۔پس اس عام حکم سے ہر چیز انسان کے لئے جائز ہوگئی سوائے اس کے جس سے نصایا اشارہ روک دیا گیا ہو۔اس آیت میں جو لَحْمُ الْخِنْزِيرِ فرمایا اس کے متعلق فقہاء میں اختلاف ہے کہ ٹیم میں چربی بھی