فرموداتِ مصلح موعود — Page 363
۳۶۳ ذبیحہ اہل کتاب ذبیحه اهل کتاب ایسا جانور جو گردن پر تلوار مار کر مارا گیا ہو یا جو دم گھونٹ کر مارا گیا ہو کھانا جائز نہیں۔قرآن کریم منع کرتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جب ولایت جانے والوں نے پوچھا تو آپ نے منع فرمایا۔پس اسے استعمال نہ کریں۔ہاں اگر یہودی یا عیسائی گلے کی طرف سے ذبح کریں تو وہ بہر حال جائز ہے خواہ تکبیر سے کریں یا نہ کریں۔آپ بسم اللہ کہہ کر اسے کھالیں۔یہودی ذبح کرنے میں نہایت محتاط ہیں۔ان کے گوشت کو بے شک کھائیں لیکن مسیحی آجکل جھٹکہ کر کے یادم کھینچ کر مارتے ہیں اس لئے بغیر تسلی ان کا گوشت نہ کھائیں۔ان کا پکا ہوا کھانا جائز ہے مچھلی کا گوشت جائز ہے۔شکار کا جو بندوق سے ہو گوشت جائز ہے۔کسی مسیحی کے ساتھ ایک ہی برتن میں کھانا پڑے تب بھی جائز ہے۔انسان ناپاک نہیں ہاں ہر ایک ناپاک چیز سے ناپاک ہو جاتا ہے۔عورتوں کو ہاتھ لگانا منع ہے۔احسن طریق سے پہلے لوگوں کو بتا دیں۔الفضل ۱۴ ستمبر ۱۹۱۵ء۔جلد ۳۔نمبر ۳۶ صفحه ۵،۴) سوال :۔ایک فوجی نوجوان نے عرض کیا کہ ڈبوں میں جو گوشت آتا ہے اس کے کھانے کے متعلق حضور کا کیا ارشاد ہے؟ جواب :۔فرمایا۔ولایت سے ڈبوں میں آنے والا گوشت تو جھٹکہ کا گوشت ہوتا ہے وہ نہیں کھانا چاہئے۔لیکن ہندوستان میں جو گوشت خشک کر کے ڈبوں میں بند کیا جاتا ہے اس کے متعلق جہاں تک ہمیں معلوم ہے ذبیحہ کا گوشت ہوتا ہے وہ کھا لینا چاہئے۔(الفضل ۱/۸ اکتوبر ۱۹۶۰ء صفحه۳ ) ( الفضل ۱۵ جون ۱۹۴۶ء - جلد ۳۴ نمبر ۱۳۹) ذبح کا اصل اسلامی طریق یہ ہے کہ ایک مسلمان اللہ تعالیٰ کا نام لے کر چھری یا کسی اور تیز دھار آلہ سے جانور کی گردن کی شاہ رگ اور نرخرہ کاٹ دے اور اُس سے اچھی طرح خون بہہ جائے یا اونٹ کی گردن میں نیزہ مار کر نحر کرے۔پس اصل حکم یہ ہے کہ مسلمان عام حالت میں ایسے ہی گوشت کو