فرموداتِ مصلح موعود — Page 317
۳۱۷ معاملات میں پڑھ رہے تھے کہ اس کی نوکری ہٹ گئی اور چھوٹے بچوں کی تعلیم رک گئی۔اب یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ اس نے بڑے لڑکے سے امتیاز روا رکھا۔بلکہ یہ تو اتفاقی بات ہے۔اس کی تو کوشش تھی کہ میں پہلے بڑے کو پڑھاتا ہوں پھر دوسروں کو باری باری ایم اے تک پڑھاوں گا۔یعنی وقتی ضروریات کے ماتحت اس نے ذمہ واری کو تقسیم کیا کہ اس وقت یہ کام کر لیتا ہوں اور جب دوسرے کا وقت آئے گا تو وہ کرلوں گا۔مگر پھر حالات بدل گئے اور وہ اپنی خواہشات پوری نہ کرسکا۔لیکن اس کے برعکس اگر ایک والد اپنے بڑے لڑکے کو جو عیالدار ہو گیا ہو، دو ہزار روپیہ دے کر الگ کر دے کہ تم تجارت کرو مگر جب دوسرے لڑکے بھی صاحب اولا د ہو جا ئیں تو انہیں کچھ نہ دے، یہ نا جائز ہے اور امتیازی سلوک ہوگا۔ہماری جماعت کو ایسی باتوں سے احتراز کرنا چاہئے۔بچوں کی ضرورتوں میں تو اختلاف ہوسکتا ہے اور وہ بھی اس کو برا نہیں مناتے لیکن مستقل جائیداد میں امتیاز خطرناک نتائج پیدا کر دے گا۔ہاں اگر کوئی یہ کر دے کہ میں نے بڑے لڑکے کو ایم اے تک پڑھا لیا ہے اور ابھی چھوٹے پڑھ رہے ہیں زندگی کا اعتبار نہیں۔ان میں سے ہر ایک کے نام اتنی رقم کر دیتا ہوں جس سے وہ ایم اے کی تعلیم حاصل کر سکے تو یہ جائز ہوگا۔کیونکہ اس میں امتیاز نہیں بلکہ وہ خطرات سے بچنے کے لئے ایسا کرتا ہے۔ایسے حالات میں دوستوں کو چاہئے کہ وہ شریعت کے احکام کی حکمت کو دیکھیں اور پھر اس کے مطابق عمل کریں۔رجسٹر اصلاح وارشاد سے ارشاد حضور ) ایک لڑکے کے نام ساری جائیداد هبه کرنا میرے سامنے جو مقدمہ پیش ہوا ہے۔وہ یہ ہے کہ ایک والد نے اپنی ساری جائیداد اپنے ایک بیٹے کے نام ہبہ کر دی ہے اور دوسرے کو محروم الارث کر دیا ہے۔اب سوال یہ اُٹھایا گیا تھا کہ ہبہ جائز ہے نا جائز ؟