فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 316

۳۱۶ معاملات اس وقت میں جس حکمت کو بیان کرنا چاہتا ہوں وہ صبہ کے متعلق ہے۔مثلاً ایک والد نے اپنی ساری جائیداد ایک لڑکے کے نام ہبہ کر دی ہے اور دوسرے لڑکے کو محروم کر دیا ہے۔آیا یہ صبہ جائز ہے یا نا جائز ؟ سب سے پہلے ہمیں اس کے متعلق قرآن کریم کا حکم دیکھنا پڑے گا جو اس نے جائیداد تقسیم کے متعلق دیا ہے۔قرآن کریم نے اس قسم کے ھبہ کو بیان نہیں کیا بلکہ ورثہ کو بیان کیا ہے جس میں سب مستحقین کے حقوق کی تعیین کر دی ہے اور قرآن کریم کے مقرر کردہ حصص کو بدلا نہیں جاسکتا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ان احکام کے مقرر کرنے میں حکمت کیا ہے۔وراثت کی رو سے کیوں سب لڑکوں کو برابر ملنا چاہئے اور ایک لڑکے کی شکایت پر کیوں رسول اللہ علیہ وسلم نے اس کے باپ کوارشاد فرمایا کہ یا تو تم اس کو بھی گھوڑا لے دو یا پھر دوسرے سے بھی لے لو۔اس میں حکمت یہ ہے کہ جس طرح اولا د پر والدین کی اطاعت فرض ہے اسی طرح والدین کے لئے بھی اولا د سے مساویانہ سلوک اور یکساں محبت کرنا فرض ہے لیکن اگر والدین اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنبہ داری سے کام لیں تو ممکن ہے کہ اولا د شاید اپنے فرائض سے تو منہ نہ موڑے لیکن ان فرائض کی ادائیگی یعنی والدین کی خدمت کرنے میں کوئی شادمانی اور مسرت محسوس نہ کرے بلکہ اسے چھٹی سمجھ کر ادا کرے۔بعض لوگوں کا اس قسم کا رویہ اولاد کے لئے مضر اور محبت کو تباہ کرنے والا ہوتا ہے جو اولا داور ماں باپ میں ہوتی ہے اس لئے اسلام نے اس سے منع کیا ہے۔لیکن وصیت اور ہبہ جو کہ اپنی اولاد کے لئے نہیں ہوتا بلکہ دین کے لئے ہوتا ہے جائز ہے کیونکہ وہ شخص اس سے خود بھی محروم رہتا ہے صرف اولاد ہی کو نقصان نہیں پہنچتا بلکہ اس کی ذات کو بھی پہنچتا ہے چونکہ خدا تعالیٰ کے رستے میں خرچ ہوتا ہے۔اس لئے اولا د بھی اس سے ملول خاطر نہیں ہوتی۔لیکن اگر ہبہ یا وصیت کسی خاص اولاد کے نام ہو، نا جائز ہوگا۔اس میں ایک بات سمجھنے والی یہ ہے کہ ایک وقتی ذمہ واری ہوتی ہے جسے ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔اس کی مثال یوں سمجھ لیجئے کہ ایک شخص کے چار لڑکے ہیں اور اس نے سب سے بڑے لڑکے کو ایم اے کی تعلیم دلا دی اور دوسری چھوٹی جماعتوں