فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 318

۳۱۸ معاملات بعض صحابہ اور فقہاء نے اسے جائز قرار دیا ہے لیکن ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ قرآن کریم اس بارہ میں ہماری کیا راہنمائی کرتا ہے اور قرآن کریم کے احکام کے ساتھ جو حکمتیں کام کر رہی ہیں ان کی روشنی میں ہبہ کے متعلق کیا صورت اختیار کی جاسکتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہبہ کا ذکر احادیث میں آتا ہے لیکن قرآن کریم نے ”ورثہ کے قوانین کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے کہ فلاں کو اتنا ، بیٹوں کو اتنا اور بیٹیوں کو اتنا دو۔اور آگے فرماتا ہے کہ اگر کوئی شخص ان احکام کی خلاف ورزی کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے آگ میں داخل کرے گا۔ان احکام پر اتنا زور دیا ہے تو کسی باپ کو یہ کیا حق ہے کہ وہ اپنی تمام جائیداد کسی اور ایک بیٹے کے نام منتقل کر دے اور دوسروں کو محروم الارث قرار دے دے۔پھر اس بارہ میں ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا بھی ایک واقعہ بطور مثال نظر آتا ہے۔ایک دفعہ آپ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے باپ نے میرے بھائی کو گھوڑا دیا ہے اور مجھے نہیں دیا۔آپ نے اس کے باپ کو بلوایا اور اس سے فرمایا یا تو اپنے اس دوسرے بیٹے کو بھی گھوڑا دو۔اور اگر تم اس کو نہیں دے سکتے تو اُس سے بھی گھوڑا واپس لے لو۔اب اس میں کیا حکمت تھی۔یہی حکمت تھی کہ قرآن کریم نے ہر بچے کا یہ فرض قرار دیا ہے کہ وہ ماں باپ کی خدمت کرے اور اس بارہ میں بڑا زور دیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے مقابلہ ماں باپ کے لئے بھی ایک فرض بچوں کے حقوق کا مقرر کیا گیا ہے اور ان کا فرض قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی اولاد میں سے کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کریں۔کیونکہ اگر وہ ایسا کریں گے تو وہ محبت جو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے وہ پیدا نہیں ہو سکے گی۔ایک باپ جس کے دو بیٹے ہوں وہ اگر ان میں سے ایک ساتھ امتیازی سلوک کرے تو دوسرے کے دل میں قدرتی طور پر یہ خیال پیدا ہو گا کہ باپ کو مجھ سے محبت نہیں ہے اور میرے دوسرے بھائی سے زیادہ ہے اور گووہ شریعت کے کہنے پر اپنے باپ کی خدمت تو کرے گا مگر اس کے دل میں اپنے باپ کے لئے دلی محبت نہیں ہوگی۔جہاں تک دنیوی باتوں کا تعلق ہے ان کی فرمانبرداری ضرور ہونی چاہئے مگر ماں باپ کے