فرموداتِ مصلح موعود — Page 266
لونڈی اور غلام جہاد میں حاصل ہوں بغیر نکاح کے گھروں میں رکھنی جائز ہیں لیکن یہ سب معنے غلط ہیں۔قرآن کریم میں اور احادیث میں نوکروں اور غلاموں کا الگ الگ ذکر ہے اس لئے نوکر اس میں شامل نہیں۔اور غلاموں کے متعلق قرآن کریم صاف طور پر فرماتا ہے کہ ماكان لنبى ان يكون له اسرى حتى يثخن في الارض (الانفال: ۶۸) یعنی کسی نبی کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی پُر امن قوم میں سے مرد جنگی قیدی یا عورت جنگی قیدی زبر دستی پکڑ لائے جب تک کہ اس کے اور اس کے دشمن کے درمیان خونریز جنگ نہ ہوئے۔یعنی یونہی کسی قوم میں سے جو جنگ نہ کر رہی ہو قیدی پکڑنے جائز نہیں جیسا کہ سینکڑوں سال سے حجاز کے لوگ حبشہ سے غلام پکڑ لاتے ہیں جیسا کہ گزشتہ صدیوں میں عراق کے لوگ ایران سے یا روم سے یا یونان سے یا اٹلی کے جزیروں سے غلام پکڑ کر لے آتے تھے۔ایسی غلامی اسلام میں جائز نہیں صرف جنگی قیدی پکڑنے جائز ہیں اور جنگی قیدی پکڑ نے بھی صرف اس وقت جائز ہیں جبکہ دشمن سے با قاعدہ جنگ ہو جائے اور ایسے وقت میں بھی یہ حکم ہے کہ جنگی قیدی کا فدیہ لے کر اسے چھوڑ دو۔اور اگر اس کے پاس فدیہ نہ ہو یا اس کی قوم اس کا فدیہ دینے کو تیار نہ ہوتو پھر حکومت اسلامیہ اسے احسان کے طور پر چھوڑ دے (سورہ محمد )۔اور اگر احسان کے طور پر چھوڑنا اس کے لئے مشکل ہو تو زکوۃ کے روپیہ میں سے اس کا فدیہ دے کر اسے چھوڑ دے ( تو بہ ) اور اگر اس میں بھی مشکل ہو تو قیدی کو مکا تبت کا اختیار دیا جائے (نور)۔مکاتبت کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ جنگی قیدی اپنے مالک سے یہ کہتا ہے کہ تم مجھے آزاد کر دو میں محنت اور کمائی کر کے اپنا فدیہ ادا کر دوں گا اور اس وقت تک اپنی ذاتی تجارتوں وغیرہ میں آزاد سمجھا جاؤں گا۔صرف اسلامی ملک میں رہنے کا وہ پابند ہوتا ہے۔اب ظاہر ہے کہ اگر کوئی عورت اوپر کے تمام طریقوں کا باوجود آزاد ہونا نہ چاہے گی تو وہ عورت ایسی ہی ہوگی جو اپنے ملک میں جانا اپنے لئے خطرناک سمجھتی ہوگی اور مسلمان مرد کے پاس رہنے کا جو خطرہ تھا اس کے راستے کھلے ہونے کے باوجود ان کو استعمال کرنا پسند نہ کرے گی اور جو عورت باوجود ہر قسم کی سہولت کے مسلمان گھرانے سے نکلنا پسند