فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 265

لونڈی اور غلام نہیں ہوا اس کے افراد کو پکڑنا جائز نہیں ہے۔اسی طرح وہ قوم جس سے جنگ ہو اس کے افراد کو بھی میدان جنگ کے علاوہ کسی اور جگہ سے بعد میں پکڑ نا جائز نہیں ہے۔صرف لڑائی کے دوران میں لڑنے والے سپاہیوں کو یا ان کو جو لڑنے والے سپاہیوں کی مدد کر رہے ہوں پکڑ لیا جائے تو یہ جائز ہوگا کیونکہ اگر ان کو چھوڑ دیا جائے تو وہ بعد میں دوسرے لشکر میں شامل ہوکرمسلمانوں کو نقصان پہنچاسکتے ہیں۔لیکن ان کے بارہ میں بھی اللہ تعالیٰ یہ ہدایت دیتا ہے کہ إِمَّا مَنَّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً (محمد : ۵) یعنی بعد میں یا تو ان کو احسان کے طور پر چھوڑ دو یا فدیہ لے کر چھوڑ دو۔پس یہ صورت تو اسلام میں جائز ہی نہیں کہ باوجود اس کے کہ کوئی شخص اپنا فدیہ پیش کرتا ہو پھر بھی اس کو غلام رکھا جائے۔اسے بہر صورت یا تو احسان کے طور پر رہا کرنا پڑے گا یا فدیہ لے کر چھوڑنا پڑے گا۔مگر یہ امر یا درکھنا چاہئے کہ موجودہ زمانہ میں یہ قاعدہ ہے کہ تاوان جنگ لڑنے والی قوم سے لیا جاتا ہے لیکن اسلام نے یہ طریق رکھا ہے کہ خود جنگی قیدی یا اس کا رشتہ دار اس کا فدیہ ادا کرے۔بظاہر یہ عجیب بات معلوم ہوتی ہے لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کے زمانہ تک تنخواہ دار فوجیں نہیں ہوتی تھیں بلکہ دونوں طرف سے رضا کارلڑنے کے لئے آتے تھے۔پس چونکہ یہ لڑائی رضا کاروں کی لڑائی ہوتی تھی اس لئے فدیہ بھی رضا کاروں پر رکھا گیا۔اب چونکہ جنگ قومی ہوتی ہے اس لئے فدیہ قوم پر رکھا گیا ہے۔( تفسیر کبیر جلد ششم۔سورۃ النور - صفحہ ۳۰۸) لونڈی کوبغیر نکاح کے بیوی بنانا الاعلى ازواجهم او ما ملکت ايمانهم (المومنون :) داہنے ہاتھ مالک ہوئے:۔کی تشریح کے بارہ میں یہ امر یا درکھنا چاہئے کہ بعض لوگ تو اس میں نوکرانیوں کو بھی شامل کر لیتے ہیں اور بعض ان لونڈیوں کو بھی جو چھاپہ مارکرکسی کمزور قوم کے اندر سے زبردستی اغوا کر لی جاتی ہیں اور پھر فروخت کر دی جاتی ہیں اور بعض لوگ ان الفاظ کے یہ معنے لیتے ہیں کہ جو عورتیں