فرموداتِ مصلح موعود — Page 267
۲۶۷ لونڈی اور غلام نہ کرے گی اس عورت سے جبر اشادی کر لینے کے سوا مسلمان مرد کے لئے کوئی چارہ نہیں کیونکہ اگر وہ آزاد نہ ہوگی اور مسلمان مرد اس سے جبر اشادی نہ کرے گا تو وہ گھر میں اور علاقہ میں بدکاری پھیلائے گی۔اور اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔پس آزاد عورتوں اور جنگی عورتوں میں اتناہی فرق ہے کہ آزاد عورت کے لئے اپنی مرضی سے نکاح کرنا جائز ہوتا ہے اور وہ عورت جو جنگی قیدی ہو وہ یا تو ان طریقوں سے اپنے آپ کو آزاد کرا لیتی ہے جو اسلام نے اس کے لئے کھلے رکھے ہیں یا پھر جس گھر میں وہ ہوتی ہے اس کا کوئی مرد اس سے شادی کر لیتا ہے تا کہ بدکاری نہ پھیلے اور اگر اس کے ہاں بچہ پیدا ہو جائے تو وہ پھر آزاد ہو جاتی ہے۔پس داہنے ہاتھوں کی ملکیت کے الفاظ سے کوئی شخص دھو کہ نہ کھائے۔( تفسیر کبیر جلد ششم سوره مومنون صفحه ۱۳۰) لونڈی کوبغیرنکاح کے لونڈی بنانا سوال : لونڈی کو بغیر نکاح کے گھر میں بمنزلہ بیوی کے رکھنا کہاں تک درست ہے۔علماء کا فتویٰ ہے کہ لونڈی سے نکاح کی کوئی ضرورت نہیں بلا نکاح تعلق رکھنا جائز ہے۔یہ درست ہے یا نا درست؟ جواب:۔اس سوال کا جواب لونڈی کی تعریف پر منحصر ہے۔اگر لونڈیوں سے وہ لونڈیاں مراد ہوں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر حملہ کرنے والے لشکر کے ساتھ ان کی مدد کرنے کے لئے ان کے ساتھ آتی تھیں اور وہ جنگ میں قید کر لی جاتی تھیں۔تو اگر وہ مکاتبت کا مطالبہ نہ کریں تو ان کو بغیر نکاح کے اپنی بیوی بنانا نا جائز ہے یعنی نکاح کے لئے ان کی لفظی اجازت کی ضرورت نہیں تھی۔در حقیقت جو میں نے اوپر مکاتبت کا ذکر کیا ہے وہ اس سوال کو پوری طرح حل کر دیتا ہے اور اجازت نہ لینے کی حکمت اس سے نکل آتی ہے لیکن یہ ایک لمبا مضمون ہے۔اگر لونڈیوں سے مراد وہ لونڈیاں ہیں جنہیں آج کل لوگ لونڈیاں کہتے ہیں تو ان سے ایسا تعلق بغیر نکاح نا جائز ہے۔اب دنیا میں کوئی ایسی لونڈی نہیں جس کا ذکر قرآن میں ہے۔الفضل ۵ ستمبر ۱۹۳۶ء۔جلد ۲۴۔نمبر ۵۷ صفحه ۵)