فرموداتِ مصلح موعود — Page 264
۲۶۴ لونڈی اور غلام ۲۔اگر اسلامی حکومت کی مالی حالت ایسی نہ ہو کہ وہ احسان کر کے چھوڑ دے تو پھر قیدی کو حق ہے کہ وہ فدیہ دے کر اپنے آپ کو چھڑالے لیکن اگر قیدی کو فدیہ کی طاقت نہ ہو تو پھر حکم ہے کہ اسلامی ملک کی زکوۃ میں سے اگر ممکن ہو تو اس کا فدیہ دے کر اس کو آزاد کر دیا جائے۔اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو قیدی کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مکاتبت کرے یعنی حکومت سے یہ عہد کرے کہ وہ کمائی کر کے آہستہ آہستہ اپنا فدیہ دے دے گا۔اور اسے آزاد کر دیا جائے گا چنانچہ وہ اس معاہدہ کے بعد فوراً آزاد ہو جائے گا اور قسط وار اپنا فدیہ ادا کرے گا۔یہ یا درکھنا چاہئے کہ پُرانے زمانہ میں جنگیں افراد کرتے تھے اور اپنے اخراجات جنگ وہ خود برداشت کرتے تھے۔اس لئے ان کا بوجھ اُتارنے کے لئے دوسری قوم سے تاوان نہیں لیا جاتا تھا بلکہ افراد پر حسب طاقت تاوان ڈالا جاتا تھا۔اب چونکہ قومی جنگ ہوتی ہے اور حکومت خرچ کی ذمہ وار ہوتی ہے۔لازماً اس نظام میں بھی موجودہ حالات کے لحاظ سے تبدیلی کرنی ہوگی اور قیدی سے تاو سے تاوان نہیں لیا جائے گا بلکہ حملہ آور قوم سے بحیثیت قوم تاوان لیا جائے گا۔۳۔جب تک تاوان جنگ ادانہ کرے اس سے خدمت لی جاسکتی ہے لیکن کام لینے کی صورت میں مندرجہ ذیل احکام اسلام دیتا ہے۔ایتم کسی قیدی سے اس کی طاقت سے زیادہ کام نہ لو۔ب۔جو کچھ خود کھاؤ وہی قیدی کو کھلا ؤ اور جو کچھ خود پہنو وہی قیدی کو پہناؤ۔ج کسی قیدی کو مارا پیٹا نہ جائے۔د۔اگر کوئی شادی کے قابل ہواور انہیں علم نہ ہو کہ کب تک وہ جنگی قیدی رہیں گے تو ان کی شادی کر دو۔( تفسیر کبیر جلد دہم۔تفسیر سوره الكفرون صفحہ۴۵۴) قیدی بنانا صرف اس صورت میں جائز ہے جب کسی قوم سے با قاعدہ جنگ ہو اور عین میدان جنگ میں دشمن قوم کے افراد کو بطور جنگی قیدی گرفتار کر لیا جائے گویا وہ قوم جس کے خلاف اعلان جنگ