فرموداتِ مصلح موعود — Page 255
خلع کر سکتے ہیں جبکہ معاملہ ایسا ہو کہ جس کے یادر کھنے کی ضرورت انہیں اس وقت محسوس نہ ہوتی ہو اور یہ معاملہ اس قسم کا ہے کہ اظہار نفرت کے وقت کسی شخص کو یہ خیال پیدا نہیں ہوسکتا تھا کہ کل کو ا سے اس واقعہ کا پھر بھی ذکر کرنا ہوگا۔ایسے امور کو انسان کما حقہ یاد نہیں رکھتا پس جبکہ گواہ اس بات پر متفق ہیں کہ لڑکی اظہار نفرت کرتی تھی اور ان میں ایسے گواہ بھی ہیں جو بے تعلق ہیں اور ثقہ ہیں تو ہمیں ان کے بیان پر اعتماد کر لینے میں کوئی تامل نہیں ہوسکتا۔لیکن میرے نزدیک جس قدر فرق لڑکی کی بلوغت اور درخواست میں بتایا جاتا ہے وہ اتنا نہیں ہے کہ اس کے متعلق یہ کہا جائے کہ ناراضگی کا اظہار بعد کی بنی ہوئی بات ہے۔نکاح کا معاملہ ایسا معاملہ نہیں ہوتا جس کا کسی خاص وقت کے ساتھ تعلق ہو۔ایسے امور میں بعض دفعہ انسان یہ بھی سوچنے لگتا ہے کہ کیا با وجود ناراضگی کے اتحاد سے رہنے کی کوئی صورت پیدا ہوسکتی ہے۔بعض دفعہ بعض ایسے رشتہ دار جونرم ہوتے ہیں معاملہ کو عدالت میں پیش کرنے سے روکتے رہتے ہیں۔اس تذبذب کی حالت کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔ہو سکتا ہے کہ یہ تذبذب کی وجہ سے بعض دفعہ صلح کی طرف مائل ہوں۔اظہار نفرت نکاح کے بعد معقول طور پر قریب عرصہ میں ثابت ہے اور سوال بہت قریب کا ہے تو میرے نزدیک ایسے مشکوک فرق کے لئے عورت کے حق کو ہم باطل نہیں کر سکتے خصوصاً جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ خیار بلوغ کا مسئلہ ایسا مسئلہ نہیں ہے جس سے عام طور لوگ واقف اور آگاہ ہوں۔ایسے مسائل کے متعلق قدرتی طور پر لوگوں میں تر ڈد زیادہ ہوتا ہے۔پس میرے نزدیک آٹھ نو مہینے کا فرق ایسے غیر معروف مسئلے کے متعلق کوئی ایسا فرق نہیں ہے جس کو خاص طور پر وقعت دی جائے اور میرے نزدیک عورت کا حق ہے کہ اس کی درخواست کو منظور کیا جاوے۔رجسٹر ہدایات دار القضاء، ربوہ - صفحه ۱۲) کفاره ظهار قسم کا کفاره سوال : کسی نے اپنے بیوی سے ناراض ہو کر ظہار کر لیا ہے یعنی اپنی بیوی سے اس نے کہا کہ جیسی