فرموداتِ مصلح موعود — Page 256
خلع میری ہمشیرہ ویسی ہی تو ہے۔اگر طلاق لینا چاہتی ہے تو وہ بھی لے لے۔اور وہ بالکل مفلس اور بے روزگار ہے اس کا باپ دس روپے کا ملازم اور عیالدار ہے۔وہ اپنی حرکت سے پشیماں ہے۔اس کے اوپر کیا کفارہ لازم آتا ہے۔اور باعث غریبی عدم ادائیگی کفارہ کے وہ کیا طریق اختیار کر سکتا ہے۔جواب :۔آپ نے جواب دیا۔غریب کا کفارہ یہ ہے کہ اس کو نصیحت کی جائے۔ایک شخص نے تقریباً دو سال سے اپنی بیوی کے ساتھ ہم صحبت ہونے کی قسم کھا رکھی تھی۔اب وہ جواب:۔اسے لکھا گیا کہ قسم کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔یہ ادا کر نے کے بعد دوبارہ رجوع چاہتا ہے؟ نکاح ہو سکتا ہے۔الفضل ۲۵ / مارچ ۱۹۱۵ء۔جلد ۲۔نمبر ۱۱۸) حامله کی عدت وضع حمل ھے والئ يئسن من المحيض من نسائكم اور وہ عورتیں جو حیض سے ناامید ہوگئی ہوں بوڑھی ہوں جن کو حیض نہ آتا ہو یعنی سن بلوغت تک نہ پہنچی ہوں۔وہ جو کہ بیمار ہوں یعنی استحاضہ والی۔ان کے لئے تین ماہ کی عدت ہے اور حمل والیوں کی عدت ان کے ایام حمل ہی ہیں۔جب بچہ جن چکیں تو عدت ختم ہوگئی۔اس پر لوگوں نے بڑی بڑی بحثیں کی ہیں کہ اگر تین ماہ سے پہلے بچہ پیدا ہو جائے تو کیا عدت ختم ہو جائے گی۔بعض کہتے ہیں کہ کم سے کم تین ماہ ہوں گے۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک واقعہ ہوتا تھا کہ ایک عورت کو تین ماہ سے پہلے ہی وضع حمل ہو گیا تھا اور اسے آپ نے دوسری شادی کی اجازت دیدی تھی۔اس لئے اس بات کا فیصلہ ہو چکا ہوا ہے۔الفضل ۴ رمئی ۱۹۱۴ء۔جلد نمبر ۴۷ ب صفحہ ۱۴)