فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 254

۲۵۴ خلع بلوغ کی تشریح آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو نہیں فرمائی۔گزشتہ فقہاء نے کی ہے اور چونکہ یہ تشریح فقہاء نے کی ہے اس لئے ہر زمانہ کے فقہاء کو اختیار ہے کہ وہ اس بارہ میں عقلی طور پر جو فیصلہ مناسب سمجھیں کریں۔ایک وقت ایسا تھا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگر دصحابہ کی تمام جماعت رہتی تھی۔اور فتویٰ جماعت کے تمام افراد میں اسی وقت پھیل جاتا تھا۔لیکن اب وہ زمانہ ہے کہ لوگ دینی مسائل سے اکثر نا واقف ہوتے ہیں۔اس ناواقفیت کی بناء پر جتنی دیر ضروری سمجھی جائے گی اس کو ملحوظ رکھنا پڑے گا۔کیونکہ دینی مسائل سے ناواقفیت خودا اپنی ذات میں ایک ایسی چیز ہے جو فتوی کو بدل دیتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک عورت پر الزام لگایا گیا کہ اس نے بدکاری کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے خاوند کو بلایا اور اسے سمجھایا کہ یہ اس قسم کی جاہل عورت ہے کہ اسے پتہ ہی نہیں کہ دین کیا ہوتا ہے اور اخلاق کیا ہوتے ہیں۔ایسی عورت پر شریعت کا وہ فتویٰ نہیں لگے گا جو اس عورت پر لگ سکتا ہے جسے شریعت کا علم ہواور اسلامی احکام سے واقفیت رکھتی ہو۔الفضل ۳۱ اکتوبر ۱۹۴۴ء۔جلد ۳۲ نمبر ۲۵۵ صفحه۱) خیار بلوغ کاعرصه آٹھ نوماہ کچھ زیادہ نھیں یہ دعوی کیا ہے کہ چونکہ ان کا نکاح قبل بلوغت کیا گیا تھا اور اب وہ بالغ ہیں اور نکاح پر راضی نہیں ہیں اس لئے ان کے نکاح کو فسخ کیا جاوے۔قاضی صاحب عدالت ابتدائی نے اور عدالت اپیل نے فسخ نکاح کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے خلاف میرے پاس اپیل کی ہے۔جواب دعوی کی بنیاد اس امر پر ہے کہ لڑکی کی بلوغت اور فنخ نکاح کی درخواست میں بہت بڑا فاصلہ ہے اس لئے لڑکی کے مطالبہ کو مستر د کرنا چاہئے۔گواہوں کے اختلاف سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ جو شہادتیں لڑکی کی طرف سے اظہار نفرت کی گزری ہیں وہ قابل سند نہیں ہیں۔میرے نزدیک یہ اعتراض درست نہیں۔شاہد اوقات کے متعلق غلطی