فیضان نبوت

by Other Authors

Page 131 of 196

فیضان نبوت — Page 131

چو تھا جواب یہ ہے کہ آیت کریہ الْيَوْمَ الْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُم وَاتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِی کی رو سے اگر دین کا اکمال آنحضرت کے ذریعہ ہی تسلیم کیا جائے جس کا نتیجہ اتمام نعمت بھی ہے تو ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کر نا پڑے گا کہ آنحضرت سے پہلے کسی نبی کے ذریعہ دین کا وہ المال وقوع میں نہیں آیا جو آپ کے ذریعہ آیا ہے۔جس کا لازمی نتیجہ یہ ماننا پڑتا ہے۔کہ آنحضرت سے پہلے دین کے بالعمل رہنے کی وجہ سے نعمت بھی ناتمام کھتی اور واقعات تھی اسی امر کی تصدیق کرتے ہیں کیونکہ گذشتہ رسولوں کی اتباع سے انسان صرف صدیقیت کے رتبہ تک پہنچ سکتا تھا ( حدید آیت ۲۰) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے وہ تمام نبوت پر بھی فائز ہو سکتا ہے۔(نسکہ آیت (۷) گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اگر ایک طرف اکمال دین ہوا تو دوسری طرف اتمام نعمت بھی ہو گیا۔اصل بات یہ ہے کہ آیت کریمہ اليوم المَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاتْمَمْتُ عَلَيْكُم نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا - میں امرت کو بشارت دی گئی ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دین اور نعمت اپنے کمال کو پہنچ گئے ہیں اس لئے اب تمہیں اسلام کے سوا کسی اور نذ سب کی طرف رجوع کرنیکی ضرورت