فیصلہ قرآن و سنت کا چلے گا کسی ایرے غیرے کا نہیں

by Other Authors

Page 21 of 28

فیصلہ قرآن و سنت کا چلے گا کسی ایرے غیرے کا نہیں — Page 21

21 کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت عائشہ کی گود میں ہوں اور ان کے دائیں پستان کو چوس رہا ہوں۔پھر میں نے بایاں پستان باہر نکالا اور اس کو چوسا۔اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔یہ تو امت کے مسلمہ بزرگوں کے کشوف میں سے دو نمونہ کے طور پر قارئین کی خدمت میں پیش ہیں۔اب سلسلہ قادریہ مجددیہ کے مشہور بزرگ پیر طریقت ، بادی شریعت حضرت شاہ محمد آفاق مشوقی ۱ اگست ۱۸۳۵ء کے اس کشف کو بھی پڑھ لیں جو انہوں نے اپنے ایک مرید فضل الرحمان تنج مراد آبادی کو بتایا۔یاد رہے کہ شاہ محمد آفاق دیو بندیوں کے بزرگوں میں سے تھے۔چنانچہ لکھا ہے۔حضرت تقدة الملاء و اسوة الفضاء "بادی شریعت و طریقت واقف اسرار حقیقت و معرفت ، مرجع خواص و عوام قطب دوران ، غوث زمان مرشد نا و مولانا فضل الرحمان صاحب دامت بر کا تم و ممت فیوضاتم کی زبان فیض ترجمان سے ارشاد ہوا کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ ہمارے گھر میں جاؤ۔مجھے جاتے ہوئے شرم آئی۔اس لئے تامل کیا۔حضرت نے مکرر فرمایا کہ جاؤ ہم کہتے ہیں۔میں گیا۔اندر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف رکھتی تھیں۔آپ نے سینہ مبارک کھول کر مجھے سینہ سے لگا لیا اور بہت پیار کیا۔" ار شا د ر حمانی صفحه ۴۲ شائع کرده خانقاه مونیگر) پس تعجب ہے بادا صاحب کی عقل پر کہ اگر کوئی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کو کشف میں اپنی ماں کی طرح دیکھ لے تو اس پر یہ " تو ہین " " تو ہین " کے نعرے بلند کرتے ہیں۔لیکن مولانا فضل الرحمن کے اس ارشاد " مذکورہ بالا کو پڑھ کر انہیں شرم تک نہیں آتی۔حقیقت یہ ہے کہ کشوف تعبیر طلب ہوتے ہیں اور اگر ان کی عقل و سمجھ اور بصیرت کے مطابق مناسب تعبیر نہ کی جائے تو نتا ئج انتہائی بھیانک ہو جاتے ہیں جس کے ذمہ دار صاحب رویا و کشوف بزرگ نہیں بلکہ لوگ ہوتے ہیں جو ان کشوف کی غیر مناسب تعبیر کرتے ہیں یا تعبیر کی بجائے اسے ظاہر پر محمول کر کے پھر اپنے خبث باطن کا اظہار کرتے ہیں۔