فیصلہ قرآن و سنت کا چلے گا کسی ایرے غیرے کا نہیں — Page 20
20 دی گئی جس کی نسبت یہ بتلایا گیا کہ یہ تفسیر قرآن ہے جس کو علی نے تالیف کیا ہے اور اب علی وہ تفسیر مجھ کو دیتا ہے۔فالحمد للہ علی ذالک " (براہین احمدیہ صفحہ ۵۷۷۴۴۷۶ حاشیه در حاشیہ نمبر (۳) ایک غلطی کا ازالہ۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۱۳) اس کشف کے ایک ایک حرف کو پڑھیں۔آپ کو معلوم ہو گا کہ گویا یہ پا نچن پاک کمرے میں تشریف لائے ہیں اور کھڑے ہیں اور ان میں سے غالباً حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایک شفیق اور مہربان ماں کی طرح آپ کو اپنے ساتھ لگایا ہے اور آپ اتنی عمر کے بچے کی طرح ہیں کہ بمشکل آپ کا قد اس بزرگ اور مہربان ماں کی رانوں تک پہنچتا ہے اور جس طرح ایک ماں پیار اور شفقت سے اپنے بچے کو اپنے ساتھ لگاتی ہے اسی طرح کا یہ نظارہ ہے جو آپ کو کشف میں دکھایا گیا۔اب ایسے نظارے پر گند کی کھیتی کرنا گندی سرشت والے کا بھی کام ہے۔سوائے اس شخص کے جسے اہل بیت کے تقدس اور احترام کا ذرہ بھر خیال نہ ہو اور کون اس پاکیزہ کشف پر تمسفر کر سکتا ہے؟ جها تک کشوف کا تعلق ہے امت کے کئی بزرگوں نے اپنے اسی نوع کے کشوف کا ذکر کیا ہے جن کے مطالعہ سے ہر کوئی اندازہ کر سکتا ہے کہ گستاخی کرنے والے اور اہل بیت کی خشک کرنے والے غلط قسم کے استنباط کرنے والے لوگ ہیں نہ کہ صاحب کشف و رویا بزرگ۔اگر معترض کی سرشت کے لوگ ان کے زمانہ میں ہوتے تو کیا ان پر بھی وہ ہرزہ سرائی کرتے ؟ حضرت امام ابو حنیفہ نے دیکھا کہ : و آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی استخوان مبارک لحد میں جمع کر رہے ہیں۔ان میں سے بعض کو پسند کرتے ہیں اور بعض کو نا پسند۔چنانچہ خواب کی ہیبت سے بیدار ہو گئے۔" (تذکرة الاولياء باب ۱۸ کشف المحجوب مترجم اردو صلحه (۱۳) اور حضرت سید عبد القادر جیلانی فرماتے ہیں۔رات في المنام كاني في حجر عائشه ام المومنين رضي الله عنها وانا ارضع ثديها الايمن ثم اخرجت لديها الايسر فوضعته فدخل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (قلائد الجواهر في مناقب الشيخ عبد القادر جیلانی مطبوعہ مصر محمد ۵۷ سطر ۸)