درثمین مع فرہنگ — Page 74
پوش صداقت کیوں نہیں لوگو تمھیں حق کا خیال دل میں آتا ہے مرے سو سو اُبال آنکھ تر ہے دل میں میرے درد ہے کیوں دلوں پر اس قدر یہ گرد ہے دل ہوا جاتا ہے ہر دم بے قرار کیس بیاباں میں نکالوں یہ غُبار ہوگئے ہم درد سے زیر و زیر مرگئے ہم پر نہیں تم کو خبر آسماں پر غافلو اک جوش ہے کچھ تو دیکھو گر تھیں کچھ پوش ہے ہو گیا دیں کفر کے حملوں سے چُور چُپ رہے کب تک خدا وند غیور اس صدی کا بیسواں اب سال ہے شرک و بدعت سے جہاں پامال ہے بد گماں کیوں ہو خُدا کچھ یاد ہے افترا کی کب تک بُنیاد ہے وہ ندا میرا جو ہے جوہر شناس اک جہاں کو لا رہا ہے میرے پاس لعنتی ہوتا ہے مرد مُفتری لعنتی کو کب سے یہ سروری اعجاز احمدی صفحه ۳۲ مطبوع ۱۹ / روحانی خزائن جلد ۱ ص۱۳۲) 74