درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 64 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 64

تجھے سب زور و قدرت ہے خُدایا تجھے پایا ہر اک مطلب کو پایا ہر اک عاشق نے ہے اک بت بنایا ہمارے دل میں یہ دلبر سمایا وہی آرام جاں اور دل کو بھایا وہی جس کو کہیں رب البرایا ہوا ظاہر وہ مجھ پر بالا یا دی بِالْآيَادِى فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي مجھے اس یار سے پیوند جاں ہے وہی جنت ، وہی دار الاماں ہے بیاں اس کا کروں طاقت کہاں ہے محبت کا تو اک دریا رواں ہے یہ کیا احساں ترے ہیں میرے ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي تری نعمت کی کچھ قلت نہیں ہے رہی اس سے کوئی ساعت نہیں ہے شمار فضل اور رحمت نہیں ہے مجھے اب شکر کی طاقت نہیں ہے کیا احسان ہیں تیرے میرے ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي ترے کوچہ میں کن راہوں سے آؤں وه خدمت کیا ہے جس سے تجھ کو پاؤں سے جلاؤں مجنت ہے کہ جس سے کھینچا جاؤں خدائی ہے خودی جس تخت چیز کیا کیس کو بتاؤں وفا کیا راز ہے کس کو سُناؤں 99 64