درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 63 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 63

بتائی تو نے پیارے میری ہر بات دکھائے تُو نے احساں اپنے دن رات ہر اک میداں میں دیں تو نے فتوحات بد اندیشوں کو تو نے کر دیا مات سر راک بگزری ہوئی تو نے بنا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْآعَادِي تری نصرت سے اب دشمن تہہ ہے سراک جا میں ہمارا تو پتہ ہے ہر اک بدخواہ اب کیوں روسیہ ہے کہ وہ مثلِ خُونی مہبر و تمه - سیاہی چاند کی منہ نے دکھا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرى الأَعَادِي ترے فضلوں سے جاں بستیاں سرا ہے ترسے نوروں سے دل شمس الضحی ہے اگر اندھوں کو انکار و اباء ہے وہ کیا جانیں کہ اس سینہ میں کیا ہے کہیں جو کچھ کہیں سر پر خُدا ہے پھر آخر ایک دن روز جزا ہے بدی کا پھل بدی اور نا مرادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي نے دشمن کے لفظ سے اس جگہ وہ حامد مراد ہیں جو ہر ایک طور سے مجھے تکلیف پہنچانا چاہتے میں لوگوں کو میری نسبت بھن کرتے ہیں۔اور گورنمنٹ عالیہ انگریزی میں بھی جھوٹی شکایتیں کرتے ہیں اور گورنمنٹ محسنہ کی نسبت جو میرے مخلصانہ خیالات ہیں اُن کو چھپاتے ہیں۔منہ 83 63