درثمین مع فرہنگ — Page 65
میں راس آندھی کو اب کیونکہ چھپاؤں ہی بہتر کہ خاک اپنی اُڑاؤں کہاں ہم اور کہاں دنیائے مادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْآعَادِي کوئی اس پاک سے جو دل لگاوے کرے پاک آپ کو تب اس کو پا دے جو مرتا ہے دہی زندوں میں جاوے جو جلتا ہے وہی مُردے چلا دے ٹمر ہے دُور کا کب غیر کھاوے چلو اوپر کو وہ نیچے نہ آوے ینہاں اندر نہاں ہے کون لاوے فريق عشق وہ وہ موتی اُٹھاوے دیکھے نیستی، رحمت دکھاوے خودی اور خود روی کب اُس کو بھاوے مجھے تو نے یہ دولت اسے خدا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي کہاں تک حرص و شوق مال فانی ؟ اٹھو ڈھونڈو متاع آسمانی کہاں تک پوش آمال و آمانی یہ سو سو چھید ہیں تم میں نہانی تو پھر کیونکر ملے وہ یار جانی کہاں غربال میں رہتا ہے پانی کردو کچھ فکر ملک جاودانی یہ ملک و مال جھوٹی ہے کہانی ہو غفلت میں جوانی گر دل میں یہی تم نے ہے ٹھانی خدا کی ایک بھی تم نے نہ مانی ذرا سوچو یہی ہے بسر کرتے زندگانی؟ 65