درثمین مع فرہنگ — Page 44
تجھے یہ مرا تو گُل در پر ترسے یہ سر ہے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَن يَرَانِي جب مجھ سے دل لگایا سو سو ہے غم اُٹھایا تن خاک میں ملایا جاں پر وبال آیا مجھ یا پر شکر اسے خُدایا ! جاں کھو کے تجھ کو پایا یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي دیکھا ہے تیرا منہ جب چکا ہے ہم پہ کو کب مقصود مل گیا سب ہے جام اب کبالب کوب تیرے کرم سے یا رب میرا کر آیا مطلب یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَن يَرَاني اجاب سارے آئے تو نے یہ دن دکھائے تیرے کرم نے پیارے یہ مہرباں بگائے یہ دن چڑھا مبارک مقصود جس میں پائے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي جہاں ہو کر کے اُلفت آئے بصد محبت دل کو ہوئی ہے فرحت اور جہاں کو میری راحت پر دل کو پہنچے غم جب یاد آئے وقت رخصت یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ تَرَانِي دنیا بھی اک سرا ہے پچھڑے گا جو ملا ہے گر سو برس رہا ہے آخر کو پھر جدا ہے گر 44