درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 43 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 43

با برگ و بار ہو دیں اک سے ہزار ہو دیں روز کر مبارک سُبحَانَ مَنْ يَرَانِي تو ہے جو پاتا ہے ، سر دم سنبھاتا ہے غم سے نکالتا ہے دردوں کو ٹالتا ہے دم کرتا ہے پاک دل کو حق دل میں ڈالتا ہے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ تَرَانِي تو نے سیکھایا فرقاں جو ہے تدار ایماں جس سے ملے ہے عرفاں اور دور رہو سے شیطاں یہ سب ہے تیرا احساں تجھ پر نثار ہو جاں روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي تیرا نبی جو آیا اُس نے خُدا دکھایا دین تقویم لایا بدعات کو مٹایا حق کی طرف بلایا مل کر خدا ملایا یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَن يرانى قرباں ہیں تجھ پہ سارے جو ہیں میرے پیارسے احساں ہیں تیرے بھارے گن گن کے ہم توہار سے دل خوں میں غم کے مارے کشتی لگا کنار سے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي راس دل میں تیرا گھر ہے تیری طرف نظر ہے مجھ سے میں ہوں منور میرا تو تو قمر ہے 43