درثمین مع فرہنگ — Page 42
اپنی پسنہ میں رکھیوٹن کر یہ میری زاری یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَن يَرَانِي اے واحد یگانہ اسے خالق زمانہ میری دُعائیں سُن لے اور عرض چاکرانہ تیرے سپرد تینوں دیں کے قمر بنانا یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي ٹیکروں سے دول عربی ہے جاں درد سے قریں ہے جو صبر کی تھی طاقت اب مجھ میں وہ نہیں ہے حزیں ہر غم سے دور رکھنا تو رب عالمیں ہے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي اقبال کو بڑھانا اب فضل لے کے آنا ہر رنج سے بچانا دُکھ درد سے چھڑانا خود میر کام کرنا یا رب! نہ آزمانا یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي یہ تینوں تیرے چاکر ہو دیں جہاں کے رہبر یہ بادی جہاں ہوں یہ ہو دیں اور یکسر یہ مرجع شہاں ہوں۔یہ ہوویں مہر انور یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَن تَرَاني اہل وقار ہو دیں دیار ہو دیں حق پر نشار ہو دیں مولی کے یار ہو دیں 42