درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 32 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 32

یہ چولہ کہ قدرت کی تحریر ہے یہی رہ نما اور یہی پیر ہے یہ انکر نے خود لکھ دیا صاف صاف کہ ہے وہ کلام خدا بے گزاف وہ لکھا ہے خود پاک کرتار نے اسی حتی و قیوم و غفار نے خُدا نے جو لکھا وہ کب ہو خطا وہی ہے خدا کا کلام صعن یہی راہ ہے جس کو بھولے ہو تُم اُٹھو یارو اب مت کرو راه یہ نورِ خُدا ہے خُدا ملا گم ارے جلد آنکھوں سے اپنی لگا ارے لوگو ! تم کو نہیں کچھ خبر جو کہتا ہوں میں اس پہ رکھنا نظر زمانہ تعصب سے رکھتا ہے رنگ کریں حق کی تکذیب سب بے درنگ ہی دیں کی راہوں کی سُنتا ہے بات کہ ہو مشقی اور نیک ذات مرد مگر دوسرے سارے ہیں پر عناد پیارا ہے اُن کو غرور اور فساد بناتے ہیں باتیں سراسر دروغ نہیں بات میں اُن کی کچھ بھی فروغ بھلا بعد چولے کے آے پر غرور وہ کیا کسر باقی ہے جس سے تو دُور تو ڈرتا ہے لوگوں سے اسے بے ہنر خُدا سے تجھے کیوں نہیں بے خطر ؟ یہ تحریر چولہ کی ہے راک زباں ! سنو وہ زباں سے کرے کیا بیاں 32 32