درثمین مع فرہنگ — Page 31
کہا دُور ہو جاؤ تم ہار کے یہ خلعت ہے ہاتھوں سے کرتار کے بشر سے نہیں تا اُتارے بشر خُدا کا ا کلام راس پہ ہے جلوہ گر دعا کی تھی اس نے کہ اسے کردگار بتا مجھ کو رہ اپنی خود کر کے پیار یہ چولہ تھا اُس کی دُعا کا اثر یہی چھوڑ کر یہ قدرت کے ہاتھوں کا تھا سرلیسر وہ ولی مر گیا نصیحت تھی مقصد ادا کر گیا اُسے مُردہ کہنا خطا ہے خطا کہ زندوں میں وہ زندہ دل جا ملا وہ تن گم ہوا یہ نشاں رہ گیا ذرا دیکھ کر اس کو آنسو بہا کہاں ہے محبت کہاں ہے وفا پیاروں کا پولہ ہوا کیوں بڑا و فادار عاشق کا ہے یہ نشاں لگاتا ہے آنکھوں سے ہو کر فدا که دلیر کا خط دیکھ کر نا گہاں یہیں دیں ہے دلدادگاں کا سدا مگر جس کے دل میں محبت نہیں اُسے ایسی باتوں سے رغبت نہیں اُٹھو جلد تر لاؤ فوٹو گراف ذرا کھینچو تصویر پولے کی صاف کہ دنیا کو ہر گز نہیں ہے بقا نا سب کا انجام ہے جز خدا سو لو عکس جلدی کہ اب ہے پراس گر اس کی تصویر رہ جائے پاس 31