درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 33

که دین خدا دینِ اسلام ہے جو ہو منکر اس کا بد انجام ہے کہ جس کا عدو مثل مردار ہے محمد وہ نبیوں کا سردار ہے تجھے چولے سے کچھ تو آوے حیا ذرا دیکھ ظالم کہ کرتا ہے کیا کہو جو رضا ہو گر سن لو بات وہ کہنا کہ جس میں نہیں پکی بات که حق جو سے کتار کرتا ہے پیار وہ انساں نہیں جو نہیں حق گزار کہو جب کہ پوچھے گا مولی حساب تو بھائیو بتاؤ کہ کیا ہے جواب؟ میں کہتا ہوں اک بات اسے نیک نام ذرا غور سے اس کو سینیو تمام کہ بے شک یہ چولہ پُر از نور ہے تمرد، وفا سے بہت دور ہے دکھائیں گے چولہ تمھیں کھول کر کہ دو اُس کا اثر ذرا بول کر یہیں پاک چولہ رہا اک نشاں گرو سے کہ تھا خُلق پر مہریاں ہیں فخر سکھوں کا ہے سربسر اسی پر دو شالے چڑھے اور زر یہی ملک و دولت کا تھا اک سنتوں عمل بد کئے ہو گئے سرنگوں خُدا کے لئے چھوڑو اب بغض و کیں ذرا سوچو باتوں کو ہو کر ایں ده صدق و محبت وہ مہر و وفا جو نائک سے رکھتے تھے تم برملا 33