درثمین مع فرہنگ — Page 28
نہ جانا کہ الہام ہے کیمیا اسی سے تو ملتا ہے گنج لقا اسی سے تو عارف ہوتے بادہ نوش راسی سے تو آنکھیں کھلیں اور گوش ہیں ہے کہ تائب ہے دیدار کا یہی ایک چشمہ ہے اسرار کا اپسی سے ملے اُن کو نازک علوم اسی سے تو اُن کی ہوئی جنگ میں دھوم خُدا خُدا پر سے یقیں یقیں آتا ہے وہ باتوں سے ذات اپنی سمجھاتا ہے کوئی یار سے جب لگاتا ہے دل تو باتوں سے لذت اُٹھاتا ہے دل که دلدار کی بات ہے اک غذا گر تو ہے ٹینکر تجھے اس سے کیا نہیں تجھ کو اس رہ کی کچھ بھی خیر تو واقف نہیں اس سے اسے بے ہنر وہ ہے مہربان و کریم و قدیر قسم اس کی ، اُس کی نہیں ہے نظیر جو ہوں دل سے قربان رب جلیل نہ نقصاں اُٹھا دیں نہ ہو دیں ذلیل جناب اسی سے تو نانگ ہوا کامیاب کہ دل سے تھا قربان عالی جنار بتایا گیا اس کو الہام میں کہ پائے گا تو مجھ کو اسلام میں یقیں ہے کہ تانک تھا ملہم ضرور نہ کر دید کا پاس اے پر غرور دیا اس کو کرتار نے وہ گیان کہ دیدوں میں اُس کا نہیں کچھ نشان وہ بھاگا ہنودوں کو چھوڑ چلا مکہ کو ہند سے منہ کو موڑ اکیلا 28