درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 29 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 29

گیا خانہ کعبہ کا کرنے طواف مسلماں بنا پاک دل بے خلاف کیا اس کو فضل خُدا نے اُٹھا یلی دونوں عالم میں عزت کی جا اگر تو بھی چھوڑے یہ ملک ہوا تجھے بھی یہ رتبہ کرے وہ عطا تو رکھتا نہیں ایک دم بھی کروا جو بیوی سے اور بچوں سے ہو جدا مگر وہ تو پھرتا تھا دیوانہ وار نہ جی کو تھا چین اور نہ دل کو قرار ہر اک کہتا تھا دیکھ کر اک نظر کہ " ہے اُس کی آنکھوں میں کچھ جلوہ گر محبت کی تھی سینہ میں اک خلش لئے پھرتی تھی اس کو دل کی تپش کبھی شرق میں اور کبھی غرب میں رہا گھوما خلق اور کرب میں کجائیں بھی یہ کام کر لیتے ہیں پرندے بھی آرام کر لیتے ہیں گر وہ تو راک دم نہ کرتا قرار " ادا کر دیا عشق کا کاروبار کسی نے یہ پوچھی تھی عاشق سے بات وہ نسخہ بتا جس سے جاگے تو رات" کہا نیند کی ہے دوا سوز و درد کہاں نیند جب غم کرے چہرہ زرد وہ آنکھیں نہیں جو کہ گریاں نہیں وہ خود دل نہیں جو کہ پریاں نہیں 29 29