درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 27

اگر وہ نہ بولے تو کیونکر کوئی یقیں کر کے جانے کہ ہے مختفی دہ کرتا ہے خود اپنے بھگتوں کو یاد کوئی اس کے رہ میں نہیں نامراد وہ مگر دید کو اس سے انکار ہے اسی سے تو بے خیر و بے کار ہے کرے کوئی کیا ایسے طومار کو بلا کر دکھا دے نہ جو یار کو وہ ویدوں کا ایشر ہے یا اک میجر کہ بولے نہیں جیسے اک گنگ وکر تو پھر ایسے دیدوں سے حاصل ہی کیا ذرا سوچھ اے یارو بهر خدا که ممکن نہیں خاص اور عام سے وہ انکار کرتے ہیں الہام یہی سالیوں کا تو تھا مدعا اگر راسی سے تو کھلتی تھیں آنکھیں ذرا یہ نہیں پھر تو وہ مر گئے کہ بے سُود جاں کو فدا کر گئے یہ ویدوں کا دعویٰ سُنا ہے ابھی کہ بعد اُن کے ماتم نہ ہو گا کبھی وہ کہتے ہیں یہ کوچہ مشدود ہے تلاش اس کی عارف کو بے سود ہے ده غافل ہیں رحماں کے اُس داب سے کہ رکھتا ہے وہ اپنے احباب سے اگر اُن کو اس رہ سے ہوتی خبر اگر صدق کا رکھتے کچھ بھی اثر تو انکار کو جانتے جائے شرم یہ کیا کہہ دیا وید نے ہائے شرم 27 27