درثمین مع فرہنگ — Page 26
یہ دیوانگی عشق کا ہے نشاں نہ سمجھے کوئی اس کو جز عاشقاں غرض بوش اُلفت سے مجذوب وار یہ نانک نے پولا بنایا شعار مگر اس سے راضی ہو وہ داستاں کہ اس بن نہیں دل کو تاب و تواں خدا کے جو ہیں وہ یہی کرتے ہیں وه لعنت سے لوگوں کی کب ڈرتے ہیں وہ ہو جاتے ہیں سارے دلدار کے نہیں کوئی اُن کا بجز یار کے وہ جہاں دینے سے بھی نہ گھبراتے ہیں کہ سب کچھ وہ کھو کر اُسے پاتے ہیں۔وہ دلبر کی آواز بن جاتے ہیں وہ اس جال کے ہمراز بن جاتے ہیں۔وہ ناداں جو کہتا ہے در بند ہے نہ الہام ہے اور نہ پیوند ہے نہیں عقل اس کو نہ کچھ غور ہے اگر دید ہے یا کوئی اور ہے یہ سچ ہے کہ جو پاک ہو جاتے ہیں خدا سے خُدا کی خبر لاتے ہیں اگر اس طرف سے نہ آوے خبر تو ہو جائے یہ راہ زیر و زیر طلب گار ہو جائیں اُس کے تباہ وہ مر جائیں دیکھیں اگر بند راہ گر کوئی معشوق ایک نہیں کہ عاشق سے رکھتا ہو یہ بغض رکھیں خدا پر تو پھر یہ گماں عیب ہے کہ وہ راحیم و عالم الغیب ہے و 26