درثمین مع فرہنگ — Page 25
کہ پردے میں قادر کے اسرار ہیں کہ عقلیں وہاں پیچ و بے کار ہیں تو یک قطره داری از عقل و خیرد مگر قدرتش بحر بے حد وعد اگر بشنوی قصه صادقال تجنبان سر خود چو مستهزیاں تو خود را خرد مند فهمیده مقامات مردان کجا ديدة ر اُس نے پہنا وہ فرخ لباس نہ رکھتا تھا مخلوق سے کچھ پراکس وہ پھرتا تھا کوچوں میں چولہ کے ساتھ دکھاتا تھا لوگوں کو قدرت کے ہاتھ کوئی دیکھتا جب اُسے دُور سے تو ملتی خبر اس کو اس نور سے تھا جسے دُور وہ نظر آتا تھا اُسے چولا خود بھید سمجھانا وہ ہر لحظہ چولے کو دکھلاتا تھا اسی میں وہ ساری خوشی پاتا تھا فرض یہ تھی تا یاد خورسند ہو خطا دور ہو پُخت پیوند معشاق اس ذات کے ہوتے ہیں وہ ایسے ہی ڈر ڈر کے جاں کھوتے ہیں ہو وہ اس یار کو صدق دکھلاتے ہیں اسی غم میں دیوانہ بن جاتے ہیں دہ جاں اس کی رہ میں فدا کرتے ہیں وہ ہر لحظه سو سو طرح مرتے ہیں وہ کھوتے ہیں سب کچھ کھندق وصفا مگر اس کی ہو جائے حاصل رضا 25