درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 7 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 7

اوصاف قرآن مجید نور فرقاں ہے جو سب نوروں سے آخیلی نیکلا پاک وہ جس سے یہ انوار کا دریا نکلا حق کی توحید کا مرجھا ہی چلا تھا پودا ناگہاں غیب سے یہ چشمہ آصفی نکلا یا الہی ! تیرا فرقاں ہے کہ اک عالم ہے جو ضروری تھا وہ سب اس میں بہتا نکلا سب جہاں چھان کے ساری دکا نہیں دیکھیں متے عرفاں کا یہی ایک ہی شیشہ نکلا کس سے اُس نور کی ممکن ہو جہاں میں تشبیہ وہ تو ہر بات میں سر وصف میں یکتا لیکلا پہلے سمجھے تھے کہ موسیٰ کا عصا ہے فرقاں پھر جو سوچا تو ہر اک لفظ مسیحا نکلا ہے قصور اپنا ہی اندھوں کا وگرنہ وہ نور ایسا چکا ہے کہ صد نیر بیضا نکلا زندگی ایسوں کی کیا خاک ہے اس دُنیا میں جن کا اس نور کے ہوتے بھی دل اخمی نیکلا جلنے سے آگے ہی یہ لوگ تو مل جاتے ہیں جن کی ہر بات فقط جھوٹ کا پتلا نکلا براہین احمدیہ حصہ سوم ص ۲۷۲ مطبوعہ سر | روحانی خزائن جلد ۱ ص ۳۰۵) 7