درثمین مع فرہنگ — Page 6
ہے یہ فرقاں میں اک عجیب اثر کہ بناتا ہے عاشق دلبر اُس کی سستی سے دی ہے مختہ خبر جس کا ہے نام قادر اکبر کوئے دلبر میں کھینچ لاتا ہے پھر تو کیا کیا نشاں دیکھاتا ہے دل میں ہر وقت نور بھرتا ہے سینے کو خوب صاف کرتا ہے اُس کے اوصاف کیا کروں میں بیاں وہ تو دیتا ہے جاں کو اور اک جہاں وہ تو چکا ہے نیر اکبر اس سے انکار ہو سکے کیونکر وہ ہمیں دلستاں تلک لایا اس کے پانے سے یار کو پایا بحر حکمت ہے وہ کلام تمام عشق حق کا پہلا رہا ہے جام بات جب اس کی یاد آتی ہے یاد سے ساری خلق جاتی ہے سینے میں نقش حق جھاتی ہے دل سے غیر خدا اُٹھاتی ہے درد مندوں کی ہے دوا دہی ایک ہے خدا سے خُدا نما وُہی ایک ہم نے پایا خور ھدی وہی ایک ہم نے دیکھا ہے دل دیا ڈی ایک اس کے منکر جو بات کہتے ہیں! یوں ہی اک واہیات کہتے ہیں! بات جب ہو کہ میرے پاس آدیں میرے منہ پر وہ بات کہہ جاویں مجھ سے اس دلستاں کا حال سنیں مجھ سے وہ صورت و جمال سنیں آنکھ پھوٹی تو خیر کان سہی نہ سہی۔یوں ہی امتحان سہی برا بین احمدیہ حصہ سوم صفحه ۲۶۸ مطبوعه شاه / روحانی خزائن جلد ۱ ص۲۹۹) 6