درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 8 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 8

حمد رب العلمين کس قدر ظاہر ہے نور اس تبه الانوار کا بن رہا ہے سارا عالم آئینہ انبار کا چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہو گیا کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمالِ یار کا اُس پہا ان کا دل میں ہمارے جوش ہے مت کرو کچھ ذکر ہم سے ترک یا تاتار کا ہے عجب جلوہ تری قدرت کا پیارے ہر طرف جس طرف دیکھیں وہی رہ ہے ترے دیدار کا چشمه خورشید میں موجیں تری مشہود ہیں ہر ستارے میں تماشا ہے تری چمکار کا تو نے خود رُوحوں پہ اپنے ہاتھ سے چھڑ کا نمک اُس سے ہے شور محبت عاشقان زار کا کیا محبت تو نے ہر اک ذرہ میں رکھے ہیں خواص کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر آن اسرار کا تیری قدرت کا کوئی بھی انتہا یاتا نہیں کس سے کھل سکتا ہے 5 اس مقدہ دشوار کا خوبرودیوں میں ملاحت ہے ترسے اُس حسن کی بر گل و گلشن میں ہے رنگ اُس ترسے گلیار کا چشم مست ہر حسیں ہر دم دکھاتی ہے تجھے ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خمدار کا آنکھ کے اندھوں کو حائل ہو گئے سو سو حجاب ورنہ تھا قبلہ ترا رخ کانه و دیدار کا ہیں تری پیاری نگاہیں دلبرا اک تیغ تیز جن سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑ غیر اغیار کا 8 00