درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 5 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 5

عیسائیوں سے خطاب آؤ عیسائیو! ادھر آؤ ! نور حق دیکھو را ور حق پاؤ جس قدر خوبیاں ہیں فرقاں میں کہیں انہیں میں تو دکھلاؤ سر پہ خالق ہے اس کو یاد کرو یونہی مخلوق کو نہ بہکاؤ کب تلک جھوٹ سے کرو گے پیار کچھ تو سچ کو بھی کام فرماؤ کچھ تو خوف خدا کرد لوگو کچھ تو لوگو خدا سے شرماؤ عیش دنیا سدا نہیں پسیارو اس جہاں کو بقا نہیں پیارو یہ تو رہنے کی جا نہیں پیارو کوئی اس میں رہا نہیں پیارو اس خرابہ میں کیوں لگاؤ دل ہاتھ سے اپنے کیوں علاؤ دل کیوں نہیں تم کو دین حق کا خیال ہائے سو سو اُٹھے ہے دل میں اُبال کیوں نہیں دیکھتے طریق صواب ؟ کس بلا کا پڑا ہے دل پہ حجاب ! اس قدر کیوں ہے کین و استکبار؟ کیوں خُدا یاد سے گیا ایک بار ؟ تم نے حق کو بھلا دیا مہات دل کو پتھر بنا دیا بیهات اے عزیزہ اسنو کہ بے قرآں حق کو ملتا نہیں کبھی انساں جن کو اس نور کی خبر ہی نہیں اُن پر اس یاد کی نظر ہی نہیں 5