درثمین مع فرہنگ — Page 4
بنا سکتا نہیں اک پاؤں کپڑے کا بشر ہرگز تو پھر کیونکر بنانا نور حق کا اُس پہ آساں ہے ارے لوگو ! کرو کچھ پاس شانِ کبریائی کا زباں کو تھام لو اب بھی اگر کچھ ہوئے ایماں ہے خدا سے غیر کو ہمتا بنانا سخت گراں ہے خُدا سے کچھ ڈرو یارو۔یہ کیسا کذب دیتاں ہے اگر اقتدار ہے تم کو خُدا کی ذات واحد کا تو پھر کیوں اس قدر دل میں تمہارے شرک پنہاں ہے یہ کیسے پڑ گئے دل پر تمہارے جہل کے پردے خطا کرتے ہو باز آؤ اگر کچھ خوف یزداں ہے ہمیں کچھ کہیں نہیں بھائیو انصیحت ہے غریبانہ کوئی ہو پاک دل ہو دے دل و جاں اُس پہ قرباں ہے ( براہین احمدیہ حصہ سوم ص۱۸۳) مطبوع شاه / روحانی خزائن جلد ۱ ص۱۹۹) 4