درثمین مع فرہنگ — Page 189
" وہ جو تھے اُونچے محل اور وہ جو تھے تصویریں پست ہو جائیں گے جیسے پست ہو اک جائے غدار ایک ہی گردش سے گھر ہو جائیں گے مٹی کا ڈھیر جس قدر جانیں تلف ہوں گی نہیں اُن کا شمار پر خدا کا رحم ہے کوئی بھی اس سے ڈر نہیں اُن کو جو مجھکتے ہیں اس درگہ پر ہو کر خاکسار یہ خوشی کی بات ہے سب کام اس کے ہاتھ ہے وہ جو ہے دھیما غضب میں اور ہے آمرزنگار کب یہ ہوگا ؟ یہ خدا کو علم ہے، پر اس قدر دی خبر مجھ کو کہ وہ دن ہوں گے ایام بہار پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی یہ خُدا کی وحی ہے اب سوچ لو اسے ہوشیار یاد کر فرقاں سے لفظ زُلْزِلَتْ زِلْزَالَهَا ایک اِن ہو گا وہی جو غیب سے پایا قرار سخت ماتم کے وہ دن ہوں گے مصیبت کی گھڑی ایک وہ دن ہوں گے نیکیوں کے لئے شیریں شمار آگ ہے پر آگ سے وہ سب بچائے جائیں گے جو کہ رکھتے ہیں خدائے ذو العجائب سے پیار انبیا سے بعض بھی اسے فاظلوا چھا نہیں دُور تر مہٹ جاؤ اس سے۔ہے پیشیروں کی کچھار کیوں نہیں ڈرتے خُدا سے کیسے دل اندھے ہوتے بے خُدا ہر گز نہیں بر قیمتو کوئی سہار یہ رنشان آخری ہے کام کر جائے مگر ورنہ اب باقی نہیں ہے تم میں امید سُدھار آسماں پر ان دنوں قہر خدا کا بوش ہے کیا نہیں تم میں سے کوئی بھی رشید و ہو نہار اس نشان کے بعد ایماں قابل عزت نہیں ایسا جامہ ہے کہ تو پوشوں کا جیسے ہو اُتار 189