درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 188

پیشگوئی جنگ عظیم یہ نشان زلزلہ جو ہو چکا مشکل کے دن وہ تو اک لقمہ تھا جو تم کو کھلایا ہے نہار اک نیا فی سے بڑی اسے غافلو کچھ دن کے بعد جس کی دیتا ہے خبر فرقاں میں رحماں بار بار فاستقوں اور فاجروں پر وہ گھڑی دشوار ہے جس سے قیمہ بن کے پھر دکھیں گے قیمہ کا بگھار خوب کھل جائے گا لوگوں پہ کہ دیں کس کا ہے دیں پاک کر دینے کا تیرتھ کعبہ ہے یا ہر دوار وہی حق کے ظاہری لفظوں میں ہے وہ زلزلہ ایک ممکن ہے کہ ہو کچھ اورہی قیموں کی مار کچھ ہی ہو پر وہ نہیں رکھتا زمانہ میں نظیر فوق عادت ہے کہ سمجھا جائے گا روز شمار یہ جو طاعوں مملک میں ہے اس کو کچھ نسبت نہیں اُس بلا سے وہ تو ہے اک حشر کا نقش و نگار وقت ہے تو بہ کرو جلدی مگر کچھ رحم ہو شست کیوں بیٹھے ہو جیسے کوئی پی کر کو کنار تم نہیں لوہے کے کیوں ڈرتے نہیں اُس ویسے جس سے پڑ جائے گی اک دم میں پہاڑوں میں بغار سے پڑ وہ تباہی آئے گی شہروں پر اور دیہات پر جس کی دنیا میں نہیں ہے مثل کوئی زینہار ایک کام میں نظم کدے ہو جائیں گے عشرت کہے شادیاں کرتے تھے جو پیٹیں گئے ہو کر سوگوار 188