درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 190 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 190

اس میں کیا خوبی کہ پڑ کر اگ میں پھر صاف ہوں خوش نصیبی ہو اگر اب سے کرو دل کی سنوار اب تو نرمی کے گئے دن اب خدائے خشمگیں کام کہ دکھلانے گا جیسے تھوڑے سے لوتار اُس گھڑی شیطاں بھی ہو گا سجدہ کرنے کو کھڑا دل میں یہ رکھ کر کہ حکم سجدہ ہو پھر ایک بار یہ لیے خدا اس وقت دنیا میں کوئی مائن نہیں یا اگر ممکن ہو اب سے سوچ لو راہِ فرار تم سے غائب ہے اگر میں دیکھتا ہوں ہرگھڑی پھرتا ہے آنکھوں کے آگے وہ زماں وہ روزگار گر کرو تو بہ تو اب بھی خیر ہے کچھ غم نہیں تم تو خود بنتے ہو قہر ڈوانین کے خواستگار تو بہ وہ خدا حلم و تفضّل میں نہیں رکھتا نظیر کیوں بھرے جاتے ہو اس کے حکم سے دیوانہ ور میں نے روتے روتے سجدہ گاہ بھی تر کردیا پر نہیں ان خشک دل لوگوں کو خوف کردگار قہر ے یاد رہے کہ جس عذاب کے لئے یہ پیشگوئی ہے اُس عذاب کو خدا تعالیٰ نے بار بار زلزلہ کے لفظ سے بیان کیا ہے۔اگر چہ بظاہر وہ زلزلہ ہے اور ظاہر الفاظ یہی بتاتے ہیں کہ وہ زلزلہ ہی ہوگا لیکن چونکہ عادت الہی میں استعارات بھی داخل ہیں اس لئے یہ بھی کہ سکتے ہیں کہ غالبا تو وہ زلزلہ ہے ورنہ کوئی اور جانگداز اور فوق العادت عذاب ہے جو زلزلہ کا رنگ اپنے اندر رکھتا ہے اور اس کی بار بار شائع کرنے کی اسی وجہ سے ضرورت پیش آتی ہے جو پہلے زلزلہ کی خبر جو اچھی طرح ت تع نہیں کی گئی اس سے بہت سی جانوں کا نقصان ہوا۔اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ دوسری پیشگوئی میں جو زلزلہ کے بارے میں ہے جہاں تک میری طاقت ہے لوگوں کو خبر کر دوں تا شاید میری بار بار کی اشاعت سے لوگوں کے دل میں صلاحیت کا خیال پیدا ہو جاتے اور اس عذاب کے ملنے کے لئے اس بات کی ضرورت نہیں کہ کوئی عیسائی ہو یا ہندو یا مسلمان ہو یا کوئی شخص ہماری بیعت کرے۔ہاں ہے ضرورت ہے کہ لوگ نیک چلینی اختیار کریں اور جرائم پیشہ ہونا چھوڑ دیں۔منہ 190