درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 175

ہ بنانا آدمی وحشی کو ہے اک معجزہ معنی راز نبوت ہے اسی سے آشکار نور لاتے آسماں سے خود بھی وہ اک نور تھے قوم وحشی میں اگر پیدا ہوتے کیا جائے عار روشنی میں مہر تاباں کی بھلا کیا فرق ہو گرچہ نکلے روم کی سرحد سے یا از زنگ بار آسے مرے پیار و شکیب وصبر کی عادت کردو کہ اگر پھیلائیں بدبو تم بنو نشک تتار نفس کو مارو کہ اس جیسا کوئی دشمن نہیں چھکے چھلکے کرتا ہے پیدا وہ سامان دمار جس نے نفس دوں کو ہمت کرکے زیر پا کیا چیز کیا ہیں اس کے آگے رستم و اسفند یار گالیاں سن کر دُعا دو پا کے دُکھ آرام کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار تم نہ گھبراؤ اگر وہ گالیاں دیں ہر گھڑی چھوڑ دو ان کو کہ چھپوائیں وہ ایسے اشتہار چُپ رہو تم دیکھ کر ان کے رسالوں میں مستقیم کم نہ مارو گردہ مائیں اور کر دیں حال زار دیکھ کر لوگوں کا بوش دفیظ امت کچھ غم کرو شدت گرمی کا ہے محتاج باران بار افترا ان کی نگاہوں میں ہمارا کام ہے یہ خیال اللہ اکبر کس قدر ہے نابکار رو خیر خواہی میں جہاں کی خوں کیا ہم نے جگر جنگ بھی تھی صلح کی نیت سے اور کہیں سے قرار پاک دل پر بد گمانی ہے یہ شکوٹ کا نشاں آب تو آنکھیں بند ہیں دیکھیں گے پھر انجام کار 175