درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 174 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 174

تیری عظمت کے کرشمے دیکھتا ہوں ہر گھڑی تیری قدرت دیکھ کر دیکھا جہاں کو مردہ کوار کام دکھلاتے جو تو نے میری نصرت کے لئے پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے ہر زماں وہ کاروبار کسی طرح تو نے سچائی کو مری ثابت کیا میں ترے قرباں مری جاں تیرے کاموں پر نشار ہے عجب اک خاصیت تیرے جمال دین میں جس نے اک چہکار سے مجھ کو کیا دیوانہ وار اے مرے پیارے ضلالت میں پڑی ہے میری توہم تیری قدرت سے نہیں کچھ دور گر پانہیں شد بار مجھ کو کافر کہتے ہیں میں بھی انھیں مومن کہوں گر نہ ہو پر سیر کرنا جھوٹ سے دیں کا شعار مجھ پر اسے واعظ انظر کی یار نے تجھ پر نہ کی حیف اس ایماں پر میں سے کفر بہترہ لاکھ بار روخته آدم کہ تھا وہ نا مکمل اب تلک میرے آنے سے ہوا کابل بجنگلہ برگ و بار وہ خدا جس نے نبی کو تھا زر خالص دیا زیور دیں کو بناتا ہے وہ اب مثل شنار دہ دکھاتا ہے کہ دیں میں کچھ نہیں آرہ و کبیر دیں تو خود کھینچے ہے دل مثل بہت سہمیں ہزار پس یہی ہے رمز جو انس نے کیا منع از جہاد تا اُٹھا دے دیں کی رہ سے جو اُٹھا تھا اک نمیار تا دکھاوے منکروں کو دیں کی ذاتی خوبیاں جن سے ہوں شرمندہ جو اسلام پر کرتے ہیں وار کہتے ہیں یورپ کے ناداں یہ نبی کامل نہیں وحشیوں میں دیں کو پھیلانا یہ کیا مشکل تھا کار 174