درثمین مع فرہنگ — Page 176
جبکہ کہتے ہیں کہ کاذب پھولتے پھلتے نہیں پھر مجھے کہتے ہیں کاذب دیکھ کر میرے شمار کیا تمھاری آنکھ سب کچھ دیکھ کر اندھی ہوئی کچھ تو اس دن سے ڈرو یارو کہ ہے روز شمار آنکھ رکھتے ہو ذرا سوچو کہ یہ کیا راز ہے؟ کس طرح ممکن کہ وہ قدوس ہو کا ذب کا یار یہ کرم مجھ پر ہے کیوں کوئی تو اس میں بات ہے بے سبب ہرگز نہیں یہ کاروبار کیر دگار مجھ کو خود اس نے دیا ہے چشمہ توحید پاک تا لگاوے از سر کو باغ دیں میں لالہ زار دوش پر میرے وہ چادر ہے کہ دی اُس یار نے پھر اگر قدرت ہے اسے منکر تو یہ چادر آثار خیرگی سے بد گمانی اس قدر اچھی نہیں ان دنوں میں جب کہ ہے شور قیامت آشکار ایک طوفاں ہے خدا کے قہر کا اب پوش پر نوح کی کشتی میں جو بیٹھے وہی ہو رستگار صدق سے میری طرف آؤ اسی میں خیر ہے ہیں درندے ہر طرف میں عافیت کا ہوں حصار پشتی دیوار دیں اور مائین اسلام ہوں نارسا ہے دست دشمن تا بفرق ہیں جدار جاہلوں میں اس قدر کیوں بدگمانی بڑھ گئی کچھ بڑے آتے ہیں دان یا پڑ گتی لعنت کی مار کچھ تو مجھیں بات کو یہ دل میں ارماں ہی رہا واہ رے شیطاں تعجب اُن کو کیا اپنا شکار آے کہ ہر دم بدگمانی تیرا کاروبار ہے دوسری قوت کہاں گم ہو گئی اسے ہوشیار 176