درثمین مع فرہنگ — Page 167
ٹوٹے کاموں کو بناوے جب نگاہ فضل ہو پھر بنا کر توڑ دے اک دم میں کر دے تار تار تو ہی بگڑی کو بنا دے توڑ دے جب بن چکا تیرے بھیدوں کو نہ پاوے سو کرے کوئی بیچار جب کوئی دل ظلمت عصیاں میں ہود سے مبتلا تیرے بن روشن نہ ہو دے گوچڑھے سورج ہزار اس جہاں میں خواہش آزادگی بے سود ہے اک تری قید محبت ہے جو کر دے رستگار دل جو خالی ہو گداز عشق سے وہ دل ہے کیا دل وہ ہے جس کو نہیں بے دلبر یکتا قرار فقر کی منزل کا ہے اول قدم نفی وجود پس کرواسی نفس کو زیر و زبر از بهر یاد تلخ ہوتا ہے ثمر جب تک کہ ہو وہ ناکام اس طرح ایماں بھی ہے جب تک نہ ہو کامل پیار تیرے منہ کی بھوک نے دل کو کیا زیر وزیر اے مرے فردوس اعلیٰ ! اب گرا مجھ پر شمار کے خدا اے چارہ ساز درد ہم کو خود بیچا اے مرے زخموں کے مرہم دیکھ میرا دل فگار باغ میں تیری محبت کے عجب دیکھتے ہیں پھل ملتے ہیں مشکل سے ایسے سیب اور ایسے انار۔تیرے بہن اسے میری جاں یہ زندگی کیا خاک ہے ایسے جینے سے تو بہتر مر کے ہو جانا غبار گر نہ ہو تیری عنایت سب عبادت ایچ ہے فضل پر تیرے ہے سب جہد و عمل کار انتصار جن پہ ہے تیری عنایت وہ بدی سے دُور ہیں رہ میں حق کی قوتیں اُن کی چلیں بن کر قطار 167