درثمین مع فرہنگ — Page 166
پر اگر آتا کوئی بیسی انہیں امید تھی اور کرتا جنگ اور دیتا غنیمت بے شمار ایسے مہدی کے لئے میداں کھلا تھا قوم میں پھر تو اس پر جمع ہوتے ایک دم میں صد ہزار پر یہ تھا رحیم خُدا وندی کہ میں ظاہر ہوا آاگ آتی گر نہ میں آتا تو پھر جاتا قرار آگ بھی پھر آگئی جب دیکھ کر اتنے نشاں قوم نے مجھ کو کہا کذاب ہے اور بد شعار ہے یقیں یہ آگ کچھ مدت تلک جاتی نہیں ہاں مگر توبہ کریں با صد نیاز و انکسار یہ نہیں اک اتفاقی آخر تا ہوتا علاج ہے خدا کے حکم سے یہ سب تباہی اور تیار وہ خدا جس نے بنایا آدمی اور دیں دیا وہ نہیں راضی کہ بے دینی ہو اُن کا کاروبار بے خدا بے زہد و تقوی بے دیانت، بے صفا بین ہے یہ دنیا تے دُوں طاعوں کرے اس میں بیکر مید طاعوں مت بنو پورے بنو تم متقی یہ جو ایماں ہے زباں کا کچھ نہیں آتا بکار موت سے گر خود ہو بے ڈرکھ کر دبچوں پر رحم آئین کی رہ پر چلو بن کو کرومت راختیار بن کے رہنے والو تم ہر گز نہیں ہو آدمی کوئی ہے رو بہ کوئی خیر یر اور کوئی ہے مار ران دلوں کو خود بدل دے آکے مرے قادر خُدا تو تو رب العالمیں ہے اور سب کا شہریار تیرے آگے مجھ یا راثبات نا ممکن نہیں جوڑنا یا توڑنا یہ کام تیرے اختیار 166