درثمین مع فرہنگ — Page 168
چھٹ گئے شیطاں سے جو تھے تیری الفت کے ہیر جو ہوئے تیرے لئے بے برگ و بڑپانی بہار سب پیاسوں سے نکو تر تیرے منہ کی ہے پیاس جس کا دل اس سے ہے بریاں پا گیا وہ آبشار جس کو تیری دھن لگی آخر وہ تجھ کو جا ہلا جس کو بے مہینی ہے یہ وہ پا گیا آخر قرار عاشقی کی ہے علامت گرید و دامان دشت کیا مبارک آنکھ جو تیرے لئے ہو اشکبار تیری درگہ میں نہیں رہتا کوئی بھی بے نصیب شرط رہ پر صبر ہے اور ترک نام منظطرار میں تو تیرے حکم سے آیا مگر افسوس ہے چل رہی ہے وہ ہوا جو رخنہ انداز بہار حکم جیفہ دنیا پر یکسر گر گئے دنیا کے لوگ زندگی کیا خاک اُن کی جو کہ ہیں مُردار خوار دیں کو دے کر ہاتھ سے دنیا بھی آخر جاتی ہے کوئی آسودہ نہیں بن عاشق و شیدائے یار رنگ تقوی سے کوئی رنگت نہیں ہے خوب تر ہے یہی ایماں کا زیور ہے یہی دیں کا سنگار کو چڑھے سورج۔نہیں بن روئے دلبر داشتی یہ جہاں بے وصل دلبر ہے شب تاریک و تار آسے مرے پیارے جہاں میں تو ہی ہے اک بے نظیر جو ترے مجنوں حقیقت میں وہی ہیں ہوشیار اس جہاں کو چھوڑنا ہے تیرے دیوانوں کا کام نقد پالیتے ہیں وہ اور دوکے اُمیدوار کون ہے جس کے عمل ہوں پاک بے انوار عشق کون کرتا ہے وفا ین اس کے جس کا دل نگار 168