درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 159 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 159

قوم کے لوگو ! ادھر آؤ کہ نکلا آفتاب وادی نلمت میں کیا بیٹھے ہو تم کنیل ونہار کیا تماشا ہے کہ میں کافر ہوں تم مومن ہوئے پھر بھی اس کا فر کا حامی ہے کہ مقتولوں کا یار کیا اپنیھی بات ہے کافر کی کرتا ہے مدد ده خدا جو چاہئے تھا مومنوں کا دوستدار ایل تقوی تھا کرم دیں بھی تمھاری آنکھ میں جس نے ناحق فلم کی رہ سے کیا تھا مجھے پہ وار بے معاون میں نہ تھا۔تھی نصرت حق میرے ساتھ فتح کی دیتی تھی وحی حق بشارت بار بار پر مجھے اس نے نہ دیکھا آنکھ اس کی بند تھی پھر سنرا پا کر لگایا شرمه دنباله دار نام بھی کذاب اس کا دفتروں میں رہ گیا اب مٹا سکتا نہیں یہ نام تا روز شمار اب کہو کس کی ہوئی نصرت جناب پاک سے کیوں تمھارا منتقی پکڑا گیا ہو کر کے خوار پھر ادھر بھی کچھ نظر کرنا خدا کے خوف سے کیسے میرے یار نے مجھ کو بچایا بار بار قتل کی ٹھانی شریروں نے چلانے تیر سنگر بن گئے شیطان کے چیلے اور نسل ہو نہار پھر لگایا ناخنوں تک زور بن کر اک گروه پر نہ آیا کوئی بھی منصوبہ اُن کو ساز دار هم نگہ میں اُن کی دقبال اور بے ایماں ہوئے آتش سمیر کے اُڑتے رہے پیہم شرار اب ذرا سوچ دیانت سے کہ یہ کیا بات ہے ہاتھ کس کا ہے کہ رد کرتا ہے وہ دشمن کا وار 159