درثمین مع فرہنگ — Page 160
کیوں نہیں تم سوچتے کیسے ہیں یہ پردے پڑے دل میں اُٹھتا ہے مرے رہ رہ کے اب سو سو بیجار یہ اگر انساں کا ہوتا کا روبار اسے ناقصاں ایسے کاذب کے لئے کافی تھا وہ پروردگار کچھ نہ تھی حاجت تمہاری نے تمہارے مکر کی خود مجھے نابود کرتا وہ جہاں کا شہر یار ، پاک و بر تر ہے وہ جھوٹوں کا نہیں ہوتا نصیر ورنہ اُٹھ جائے کہاں پھر پیچھے ہو دیں شرمسار برتر اس قدر نصرت کہاں ہوتی ہے اک کذاب کی کیا تمھیں کچھ ڈرنہیں ہے کرتے ہو بڑھ بڑھ کے دار ہے کوئی کا ذب جہاں میں لاؤ لوگو کچھ نظیر میرے جیسی جس کی تائیدیں ہوئی ہوں بار بار آفتاب صبح نیکلا اب بھی سوتے ہیں یہ لوگ دن سے ہیں بیزار اور راتوں سے وہ کرتے ہیں پیار روشنی سے بعض اور قائمت پر وہ قربان ہیں ایسے بھی شہپر نہ ہوں گے گر تم ڈھونڈو ہزار سر یہ اک سُورج چپکتا ہے گھر آنکھیں ہیں بند مرتے ہیں مین آب وُہ اور کر یہ نہر خوشگوار طرفہ کیفیت ہے ان لوگوں کی جو منکر ہوئے یوں تو سبر دم مشغلہ ہے گالیاں کیسل ونہار پر اگر پوچھیں کہ ایسے کا ذبوں کے نام لو جن کی نصرت سالہا سے کر رہا ہو کردگار مردہ ہو جاتے ہیں اس کا کچھ نہیں دیتے جواب زرد ہو جاتا ہے منہ جیسے کوئی ہو سوگوار اُن کی قسمت میں نہیں دیں کے لئے کوئی گھڑی ہو گئے مفتون دنیا دیکھ کر اس کا سینگار و 160