درثمین مع فرہنگ — Page 158
ان غموں سے دوستو خم ہو گئی میری کمر میں تو مر جاتا اگر ہوتا نہ فضل کردگار اس پیش کو میری وہ جانے کہ رکھتا ہے پیش اِس انتم کو میرے وہ سمجھے کہ ہے وہ دلنگار کون روتا ہے کہ جس سے آسماں بھی رو پڑا مہرومہ کی آنکھ غم سے ہو گئی تاریک و تار مفتری کہتے ہوئے اُن کو حیا آتی نہیں کیسے عالم ہیں کہ اس کا کم سے ہیں یہ برکنار غیر کیا جانے کہ دلبر سے ہمیں کیا جوڑ ہے وہ ہمارا ہو گیا اس کے ہوتے ہم جہاں تیار یں کبھی آدم کبھی موسی کبھی یعقوب ہوں نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار میز اک شجر ہوں جس کو داؤدی صفت کے پھل لگے میں ہوا داؤد اور جانوت ہے میرا شکار شجر پر سیما بن کے میں بھی دیکھتا روئے صلیب گر نہ ہوتا نام احمد جس پر میرا سب مدار دشمنو! ہم اس کی رہ میں مر رہے ہیں ہر گھڑی کیا کرو گے تم ہماری نیستی کا انتظار سرسے میرے پاؤں تک وہ یار مجھ میں ہے نہاں اے مرے بدخواہ کرنا ہوش کر کے مجھے پہ وار کیا کروں تعریف سن یار کی اور کیا لکھوں اک ادا سے ہو گیا میں سیل نفس دوں سے پار راس قدر عرفاں بڑھا میرا کہ کافیر ہو گیا سمجھ میں اُس کی کہ ہے وہ دور تر از صحن یار اُس رُخ روشن سے میری آنکھ بھی روشن ہوئی ہو گئے اسرار اس دلبر کے مجھ پر آشکار 158