درثمین مع فرہنگ — Page 157
آسمان بار در نشان آنوقت می گوید نہیں ایسی دو شاید از پی من نعره زن چون بیقرار اب اسی گلشن میں لوگو راحت و آرام ہے وقت ہے جلد آؤ اسے آوارگان دشت خار راک زماں کے بعد اب آتی ہے یہ ٹھنڈی ہوا پھر خُدا جانے کہ کب آئیں یہ دن اور یہ بہار ائے مکذب کوئی اس تکذیب کا ہے انتہا کب تلک تو جوتے شیطاں کو کرے گلا اختیار ملت احمد کی مالک نے ہو ڈالی تھی بنا آج پوری ہو رہی ہے آسے عزیزان دیار میشن احمد بنتا ہے منکن بادِ صبا جس کی تحریکوں سے سُنتا ہے بشر گفتار یاد ورنہ وہ ملت وہ کہ وہ رسم وہ دیں چیز کیا سایہ افگن جس پر نور حق نہیں خورشید وار دیکھ کر لوگوں کے رکھنے دل مرا خوں ہو گیا قصد کرتے ہیں کہ ہو پامال در شا ہوار ہم تو ہر دم چڑھ رہے ہیں اک بندی کی طرف وہ بلاتے ہیں کہ ہو جائیں نہاں ہم زیر غار نور دل جاتا رہا اک کرشم دیں کی رہ گئی پھر بھی کہتے ہیں کہ کوئی مضلع دیں کیا بکار ! راگ وہ گاتے ہیں جس کو آسماں گاتا نہیں وہ ارادے میں کہ جو میں بر خلاف شہریار ہائے مارا استیں وہ بن گئے دیں کے لئے وہ تو فربہ ہوگئے پر دیں ہوا زار و نزار 157